Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

طوافِ کعبہ سے فراغت کے بعد آپ مقامِ ابراہیم کے پاس آئے اور قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى (125:2) یعنی، اور مقامِ ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ پھر مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد حجرِ اسود کے پاس گئے اور اس کا بوسہ لیا۔ پھر صفا کی طرف روانہ ہوئے۔ قریب آئے تو فرمایا: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ اَبَدًا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1218)، یعنی، بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ پھر آپ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ الفاظ کہے: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، اَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1218)، یعنی، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔ پھر آپ صفا سے اتر کر مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان آپ نے اس طرح سعی فرمائی کہ جب آپ نشیب میں (میلین اخضرین کے درمیان) پہنچے تو دوڑنے لگے۔ نشیب ختم ہوا تو آہستہ چلنے لگے۔ مروہ پہنچ کر آپ اس کے اوپر اتنا چڑھے کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ یہاں بھی آپ نے تکبیر و تہلیل کی اور دعا مانگی۔ اسی طرح آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے ابتدائی چند پھیرے پیروں پر کیے اور بقیہ پھیرے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر۔ آپ نے ایسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page