رسول اللہ کا حج
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
غالباً اس لیے کیا کہ دور تک پھیلا ہوا مجمع آپ کے عمل کو بخوبی طور پر دیکھ سکے۔ آپ کا ساتواں پھیر امر وہ پر ختم ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کو مکہ میں مقام ابطح میں اترے۔ یہاں آپ 8 ذی الحجہ تک (چار دن) رہے ۔ اور وہیں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قصر کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ 8 ذی الحجہ کو آپ اپنے تمام اصحاب کے ساتھ منیٰ گئے۔ جاتے وقت کوئی طواف نہیں کیا۔ اس دن ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازیں آپ نے منیٰ میں پڑھیں اور رات کو یہیں قیام کیا۔ صبح 9 ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد آپ عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ نمرہ (وادی عرنہ) کے ایک خیمہ میں اترے۔ صحابہ میں سے کوئی لبیک پکارتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔ کوئی ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ جب زوال کا وقت آیا تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے اور میدان عرفہ کے بیچ میں ٹھہرے۔ یہاں موجودہ مسجد نمرہ کی جگہ اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجة الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خطبہ اور دوسرا خطبہ جو آپ نے منیٰ میں دیا ، وہ متفرق طور پر حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا مجموعہ اگلے صفحات میں نقل کیا جا رہا ہے۔ یہ جمعہ (9 ذی الحجہ) کا دن تھا۔ جب آپ خطبہ دے چکے تو آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ انھوں نے اذان دی۔ آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے دو دو رکعت پڑھی۔ یہ جمعہ کی نماز نہیں بلکہ ظہر کی قصر نماز تھی۔ کیوں کے آپ نے اس میں قرات با جہر نہیں کی۔ فرض کے علاوہ اس موقع پر کوئی سنت یا نفل آپ نے نہیں پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ عرفات کے اس مقام پر آئے جس کو وقوف کی جگہ کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ نے اپنے اونٹ پر بیٹھے بیٹھے سورج ڈوبنے تک دعا کی۔ آپ نے فرمایا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader