رسول اللہ کا حج
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دن کی دعا بہترین دعا ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3585)۔ اس وقت آپ قسم کے ربانی احساسات سے بھرے ہوئے تھے، اس کا اندازہ ان کلمات سے ہوتا ہے جو اس وقت آپ کی زبان سے نکل رہے تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: ”اللّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي، وَتَرَى مَكَانِي، وَتَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي، لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِي، أَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيثُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِينِ وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيلِ، وَأَدْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ وَذَلَّ جَسَدُهُ وَرَغِمَ أَنْفُكَ لَكَ، اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا، وَكُنْ بِِي دُومًا رَحِيمًا، يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ “ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 11405)۔ اے اللہ تو میری بات سن رہا ہے اور تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو میرے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے۔ میری کوئی بات تجھ سے چھپی ہوئی نہیں۔ میں مصیبت زدہ ہوں، محتاج ہوں، تجھ سے فریادی ہوں۔ تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پریشان ہوں۔ خوف زدہ ہوں۔ اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کر رہا ہوں۔ تجھ سے بے کس آدمی کی طرح سوال کر رہا ہوں ۔ اور گنہگار اور حقیر انسان کی طرح تیرے سامنے گڑگڑا رہا ہوں۔ اور تجھ سے خوف زدہ اور آفت رسیدہ آدمی کی مانند سوال کرتا ہوں، جیسے وہ شخص جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہو اور اس کی آنکھیں تیرے لیے بہہ پڑی ہوں، اور اس کا جسم تیرے آگے فروتنی کیے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ، تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام نہ رکھ اور تو میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم والا بن جا۔ اے تمام مانگے جانے والوں سے بہتر اور اے سب دینے والوں سے اچھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader