Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اثنا میں لوگ حج کے مسائل پوچھنے آتے تھے۔ کچھ نجدیوں نے پوچھا کہ حج کیا ہے۔ آپ نے فرمایا الْحَجُّ عَرَفَةُ (مسند احمد، حدیث نمبر 18774)، یعنی، حج عرفات میں ٹھہرنے کا نام ہے۔ یعنی جو شخص یوم النحر سے پہلے یہاں آجاتے اس کا حج ہو گیا۔ قرآن کی یہ آیت یہیں عرفہ میں خطبہ حجۃ الوداع کے بعد نازل ہوئی: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (5:3)، یعنی، آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ سورج ڈوبنے کے بعد آپ عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھالیا۔ راستہ بھر آپ تلبیہ کرتے رہے۔ مزدلفہ پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آپ نے لوگوں کو تیز چلنے سے منع فرمایا۔ آپ نے کہا: اَلسَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِضَاعِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 9483) یعنی، لوگو، سکون اور اطمینان کے ساتھ چلو۔ دوڑنا کوئی ثواب کی بات نہیں۔ مزدلفہ میں آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اذان کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور اونٹوں کو بٹھانے اور سامان اتارنے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کی اس کے بعد جب لوگوں نے سامان اتار لیا تو آپ نے عشاء کی نماز دو رکعت ادا فرمائی۔ یہاں بھی آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے دونوں نمازیں ادا کیں۔ فرض کے علاوہ آپ نے کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور صبح تک سوئے۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز آپ نے اول وقت پڑھی۔ یہ ذی الحجہ کی دس تاریخ تھی۔ پھر آپ سواری پر بیٹھے اور مشعر حرام آئے۔ یہاں قبلہ کی طرف رخ کر کے دعا اور تضَرّع کرتے رہے، یہاں تک کہ پوری طرح اجالا ہو گیا۔ سورج نکلنے سے پہلے آپ مزدلفہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ برابر تلبیہ کرتے رہے۔ فضل بن عباس آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ نے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page