رسول اللہ کا حج
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
کو حکم دیا کہ رمی جمار کے لیے یہاں سے سات کنکریاں چن لیں۔ جب آپ وادی محسر میں پہنچے تو لوگوں سے کہا کہ یہاں سے تیزی سے گزر جاؤ۔ اپنی اونٹنی بھی آپ نے تیز کردی۔ وادی محسر وہ جگہ ہے جہاں اصحاب فیل پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔ آپ چلتے رہے، یہاں تک کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔ پھر آپ جمرۃ العقبہ آئے۔ یہاں آپ اس طرح کھڑے ہوئے کہ مکہ آپ کے بائیں طرف تھا اور منیٰ داہنی طرف۔ آپ نے سواری پر بیٹھے ہوئے سورج نکلنے کے بعد ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں جس کو رمی کہا جاتا ہے۔ ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ رمی جمار کے بعد آپ نے تلبیہ موقوف کیا۔ اس کے بعد آپ منیٰ واپس ہوئے۔ آپ نے دین کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان فرمایا: • اِعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُوْمُوا شَهْرَكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 22258)۔ یعنی، اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور پانچ وقت کی نماز پڑھو اور رمضان کے مہینہ کے روزہ رکھو اور اپنے صاحب امر کی اطاعت کرو، اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔ منیٰ میں آپ نے ایک خطبہ دیا۔ یہ اہم خطبہ عرفہ کے خطبہ سے مشابہ تھا۔ یہ تکرار غالباً اس لیے تھی کہ جس نے وہاں نہ سنا ہو وہ یہاں سن لے۔ اور اچھی طرح یاد کر لے۔ یہاں آپ نے جن باتوں کا اعلان فرمایا ان میں سے یہ بھی تھا: • لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى (مسند احمد، حدیث نمبر 23489)۔ یعنی، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں۔ اور کسی کالے کو کسی سرخ پر فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader