رسول اللہ کا حج
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
کالے پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا مدار صرف تقویٰ پر ہے۔ نیز آپ نے فرمایا: أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا، وَلَكِنْ سَتَكُونُ لَهُ طَاعَةٌ فِي بَعْضِ مَا تَحْتَقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَيَرْضَى بِهَا ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3055)۔ یعنی، سُن لو، شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں قیامت تک اس کی پرستش کی جائے۔ مگر تم ایسے کاموں میں اس کی پیروی کرو گے جس کی تمہاری نظر میں اہمیت نہ ہوگی اور وہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ منیٰ میں مقام نحر ( قربانی کی جگہ ) پر گئے ۔ یہاں آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے۔ آپ کی عمر 63 سال ہوئی۔ اس کے بعد آپ رک کے اور حضرت علی سے کہا کہ سواونٹ میں جو تعداد باقی ہے اس کو تم پورا کر دو۔ قربانی سے فارغ ہو کر آپ نے معمر بن عبد اللہ ( حجام) کو بلایا اور اپنے بال منڈائے جس کو حلق کہا جاتا ہے اور ناخن کتروائے۔ عورتوں کو آپ نے صرف تقصیر (بال کتروانے) کا حکم دیا۔ مونڈنے سے منع فرمایا۔ اس کے بعد آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ قربانی مقام نحر کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کا گوشت آپ نے تھوڑا سا پکوا کر کھایا اور بقیہ خیرات کر دیا۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ اور کھلاؤ اور جب تک چاہے اس کو سکھا کر رکھو۔ 10 ذی الحجہ کو آپ مکہ پہنچے۔ یہاں آپ نے ظہر سے پہلے طواف افاضہ کیا جس کو طواف زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ اس طواف میں آپ نے رمل اور اضطباع نہیں کیا اور نہ سعی کی۔ اس کے بعد آپ زمزم کے کنویں کے پاس آئے اور کھڑے ہو کر زمزم پیا۔ اس وقت حسب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader