Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

دستور خاندان عبد المطلب کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ اس کے بعد آپ اسی روز منیٰ کے لیے واپس ہو گئے۔ رات آپ نے منیٰ میں گزاری۔ اگلے روز 11 ذی الحجہ کو آپ منیٰ میں سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب زوال کا وقت آیا تو آپ سواری سے اتر کر رمی جمار کے لیے گئے۔ پہلے آپ نے جمرہ اولیٰ پر ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں۔ اس کے بعد کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ اور پھر جمرہ وسطیٰ پر اسی طرح کنکریاں ماریں۔ اس کے بعد پھر کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ ہر کنکری پر آپ اللہ اکبر فرماتے رہے۔ اس کے بعد جمرۃ العقبہ کے قریب جا کر اس کو سات کنکریاں ماریں۔ پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد 12 ذی الحجہ اور 13 ذی الحجہ (ایام تشریق کے تینوں دن تک) آپ منیٰ ہی میں رہے۔ منیٰ میں آپ نماز قصر بغیر جمع پڑھاتے رہے۔ 13 ذی الحجہ کو زوال کے بعد مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے وادی محصب (ابطح) کے ایک خیمہ میں قیام کیا۔ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں یہیں پڑھیں ، رات کو یہیں آرام کیا۔ رات کو پچھلے پہر اٹھ کر حرم گئے اور کعبہ کا طواف (طواف الوداع) کیا اور وہیں فجر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد قافلہ کو سفر کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنے اپنے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپ مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مکہ میں داخل ہونے سے لے کر نکلنے تک آپ کا قیام کل دس دن رہا۔ جب ذو الحلیفہ (مدینہ کے قریب) پہنچے تو آپ ٹھہر گئے اور رات یہاں گزری۔ صبح کو طلوع آفتاب کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے۔ جب آپ کی نظر سواد مدینہ پر پڑی تو آپ نے تین بار تکبیر کہی اور فرمایا: اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page