Urdu book · حقیقت حج

رسول اللہ کا حج

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1797؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1344)۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے۔ اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹ رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا، اور اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔ حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرا لیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے: لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ (کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں)۔ حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا۔ "عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمَنْ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ، إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ" (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2015)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page