Urdu book · حقیقت حج

ایک سبق

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سبق حجة الوداع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ادا فرمایا اس میں ہمارے لیے بہت سے نہایت اہم سبق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی زندگی ہمیشہ روایات کے اوپر چلتی ہے۔ روایات کو توڑنا اجتماعی زندگی میں ناقابل تلافی خلل پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں جو کچھ کیا جائے روایات کو توڑے بغیر کیا جائے۔ روایات کو توڑ کر کام کرنا پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق نہیں۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهُ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر (14705) یعنی حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں نو سال رہے مگر آپ نے حج ادا نہیں کیا۔ پھر ہجرت کے دسویں سال اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جانے والے ہیں چنانچہ مدینہ میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ پھر ہم آپ کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے دس سال تک حج کیوں نہیں ادا فرمایا۔ ابتدائی سالوں میں بظاہر قریش کی طرف سے مزاحمت کا اندیشہ تھا جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر انھوں نے آپ کو عمرہ کرنے سے روکا۔ مگر رمضان 8ھ میں جب فتح ہوا تو اس کے بعد یہ رکاوٹ ختم ہو چکی تھی۔ فتح مکہ کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے 8ھ اور 9ھ میں حج ادا نہیں کیا۔ آپ صرف 10ھ میں حج کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے دو ماہ بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ حج کے نظام میں مطلوبہ اصلاح روایات کو توڑے بغیر انجام دی جائے۔ کیلنڈر دو قسم کے ہیں۔ ایک قمری، دوسرا شمسی۔ قمری کیلنڈر چاند کے بڑھنے اور گھٹنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page