Urdu book · حقیقت حج

ایک سبق

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اعتبار سے مقرر ہوتا ہے۔ جس کا ہر آدمی براہ راست مشاہدہ کر رہا ہے۔ شمسی کیلنڈر الحساب کے ماہرین سورج کی گردش کا ریاضیاتی شمار کر کے بناتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، قمری کیلنڈر فطری کیلنڈر ہے اور شمسی کیلنڈر حسابی کیلنڈر۔ عبادات کے نظام کے لیے اللہ تعالیٰ نے قمری کیلنڈر کو پسند فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قمری کیلنڈر افضل یا مقدس ہے۔ جس خدا نے چاند کی گردش مقرر کی ہے اسی خدا نے سورج کی گردش بھی مقرر کی ہے۔ پھر ایک مقدس اور دوسرا غیر مقدس کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کا سبب دراصل عملی ہے، نہ کہ اعتقادی۔ عبادات میں فطری سادگی کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ اسی لیے عبادات کو قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا۔ يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ مَرَّةً تِسْعَ وَعِشْرُونَ وَمَرَّةً ثَلَاثُونَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1913؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1080)۔ یعنی، حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم نا خواندہ لوگ ہیں۔ ہم نہ لکھتے اور نہ حساب کرتے۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے اور یوں ہے۔ اور آپ نے تیسری بار انگوٹھے کو موڑا، پھر فرمایا کہ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے اور یوں ہے۔ یعنی پورے بیس۔ کسی بار 29 دن کا اور کسی بار 30 دن کا۔ قمری مہینہ کی بنیاد چاند کی رویت پر ہے۔ اس لیے وہ کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی 30 دن کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سادہ طور پر اس طرح سمجھایا کہ آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page