ایک سبق
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر تین بار دکھائیں ، یعنی 10+10+10 (کل 30) ۔ پھر دوسری بار آپ نے دونوں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر تین بار دکھائیں۔ آخری بار ایک ہاتھ کا انگوٹھا سمیٹ لیا ، یعنی 9+10+10 (کل 29) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قمری مہینہ کوئی دینی مہینہ ہے اور تمام معاملات کا حساب قمری کیلنڈر کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔ اس کا تعلق دراصل عبادتی امور سے ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عبادات کے معاملہ میں قمری تاریخوں کا لحاظ کیا جائے گا تا کہ ہر آدمی آسانی اس کا اتباع کر سکے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کا نظام بنایا یا تو اسی مصلحت کی بنا پر اس کو قمری مہینہ کی بنیاد پر بنایا ۔ مگر قریش مکہ جو کعبہ کے متولی تھے انھوں نے بعد کو اپنے تجارتی مفاد کی خاطر یہ چاہا کہ حج کا نظام شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر مقرر کریں تا کہ حج کی تاریخیں ہمیشہ ایک ہی موسم میں پڑیں ۔ اس کے لیے انھوں نے بعض دوسری قوموں سے کبیسہ (Intercalation) کا اصول لیا اور اس کو حج کے معاملہ میں رائج کر دیا ۔ شمسی سال 365 دن کا ہوتا ہے اور قمری سال 354 دن کا ۔ یعنی دونوں کے درمیان گیارہ دن کا فرق ہے ۔ ہر آٹھ سال میں یہ فرق تقریباً تین مہینہ کا ہو جاتا ہے ۔ اہل عرب یہ کرتے تھے کہ قمری مہینوں میں فرق کے بقدر دنوں کا اضافہ کرتے رہتے تھے تا کہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ چلتے رہیں ۔ اس طرح قمری مہینے اپنے جگہ سے ہٹتے رہتے تھے ۔ یہ چکر 33 سال میں پورا ہوتا تھا ۔ چنانچہ 33 سال میں مسلسل ایسا ہوتا کہ حج اپنی اصل تاریخوں کے بجائے دوسری تاریخوں میں آتا تھا اور 34 ویں سال میں پہنچ کرو وہ دوبارہ اصل ابراہیمی تاریخ (ذی الحجہ) میں پڑتا تھا ۔ رمضان 8 ھ میں مکہ فتح ہوا تو یہ 33 سالہ دور اپنے آخری مرحلہ میں تھا ۔ یعنی 8ھ اور 9ھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader