Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد پر بننے والی تاریخ ثبت ہے۔ جس کے ہر طرف اس مثالی ربانی انقلاب کے آثار پھیلے ہوئے ہیں جو خاتم النبیین کی رہنمائی میں چودہ سو سال پہلے واقع ہوا تھا۔ اس قسم کی روایات اور خصوصیات نے دیارِ حرم کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ وہاں ایک خاص طرح کا روحانی اور تاریخی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آدمی حج ادا کرنے کے بعد اس طرح لوٹتا ہے جیسے کوئی گرد و غبار میں لپٹا ہوا آدمی دریا میں نہا کر واپس آئے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ تاہم حج کی یہ خصوصی اہمیت اپنی روح کے اعتبار سے ہے، نہ کہ محض اپنے ظاہر کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ محض دیارِ حرم میں جا کر واپس آ جانے کا نام حج نہیں ہے بلکہ ان کیفیات کے حصول کا نام حج ہے جن کے لیے یہ فریضہ مقرر کیا گیا ہے۔ حج کے افضل عبادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج کو اس کی سچی روح اور صحیح آداب کے ساتھ ادا کرے اس کے لیے حج اس کی سب سے بڑی عبادت بن جائے گا۔ عبادتوں کا سردار حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقامات حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی ربانی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ "اپنی دنیا" سے نکل کر "خدا کی دنیا" میں پہنچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو چھوڑ رہا ہے۔ وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے۔ وہ اس کے حضور اپنی قربانی پیش کر رہا ہے۔ وہ اس کے دشمن پر کنکریاں مار رہا ہے۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہیے۔ کعبہ زمین کے اوپر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہاں بھٹکی ہوئی انسانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page