Urdu book · حقیقت حج

عبادتوں کا سردار

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

روحوں کو خدا کی آغوش دی جاتی ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم سب کچھ اس شخص کے لیے ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔ بے استعداد لوگوں کے لیے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ صرف اس لیے وہاں جاتے ہیں تا کہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: اَلْحَجُّ عَرَفَةُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 889)۔ یعنی عرفات کے میدان میں قیام حج ہے۔ اس سے عرفات کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حج کے زمانے میں عرفات کا میدان گویا حشر کے میدان کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک خاص تاریخ کو خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے۔ تمام لوگوں کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس (احرام) ہے۔ ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری ہے لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ۔ دیکھنے والوں کو یہ دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے : وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَإِذَا هُمْ مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُوْنَ (36:51)۔ یعنی، اور صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ یکا یک قبروں سے اپنے رب کی طرف چلنے لگیں گے۔ عرفات کی یہ حاضری اس لیے ہے کہ آدمی حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے۔ جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے اس کو آج ہی تصوراتی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page