Urdu book · حقیقت حج

حج کا پیغام

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

حج کا پیغام حج کیا ہے۔ یہ اللہ کے لیے سفر کرنا ہے۔ اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر کے ان مقامات پر پہنچنا ہے جہاں اللہ کی یادگاریں ہیں، جن سے اللہ کے سچے بندوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ حج کے تمام مراسم اس بات کا عملی اظہار ہیں کہ آدمی اللہ کے لیے سرگرم ہے۔ اس نے اپنی زندگی اللہ کے گرد گھما رکھی ہے۔ وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ حشر کے میدان میں اللہ کے سامنے حاضری کی کیفیت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اللہ کی یاد کرنے والا ہے۔ وہ اسلام کو ایک عالمی حقیقت بنانے اور اس کو بین الاقوامی سطح پر رواج دینے کے لیے بے قرار ہے۔ حج بظاہر ایک وقتی عبادت ہے۔ مگر دراصل وہ ایک مومن کی پوری مومنانہ زندگی کی تصویر ہے۔ وہ آخری سانس تک کے لیے عبدیت کا اقرار نامہ ہے۔ آدمی اس لیے جیتا ہے تا کہ وہ اپنے رب کے لیے حج کرے ۔ اور اس لیے حج کرتا ہے تا کہ وہ اپنے رب کے لیے جیے۔ حج مومن کی زندگی کی تعبیر بھی ہے اور اس کی موت کی تعبیر بھی۔ حج گویا حق تعالی کی زیارت ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ ایسے مقام پر کیا جاتا ہے جس کو اللہ نے مبارک اور ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے ( آل عمران، 3:96)۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے کئی خداؤں کو اپنا مرجع بنانے کے بجائے ایک خدا کو اپنا مرجع بنایا۔ اور اس مقصد کے لیے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کی جو خدائے واحد کی عبادت کا عالمی مرکز ہے۔ یہی مرکز توحید حج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page