Urdu book · حقیقت حج

حج کا پیغام

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مراسم کی ادائیگی کا مرکز بھی ہے۔ جہاں اسلام کی پوری تاریخ ثبت ہے۔ اس کے ہر طرف ان قابلِ نمونہ اصحابِ رسول کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں جنھوں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں خدا کے دین کو پہلی بار ایک تاریخی واقعہ بنایا۔ ربانی جدوجہد کی اس تاریخ کی بنا پر مکہ رویئے زمین پر اللہ کا سب سے محبوب اور سب سے بہترین مقام ہے (وَاللَّهِ إِنَّكَ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَل) مسند احمد، حدیث نمبر 18715۔ ان واقعات کی بنیاد پر وہاں اسلام کے حق میں ایک خاص طرح کا تاریخی اور نفسیاتی ماحول بن گیا ہے۔ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ حاجی اگر تیار ذہن ہو تو حج کے ذریعہ خدا کے ربانی رزق سے ایک ایسا حصہ لے کر لوٹتا ہے جو اس کی بقیہ زندگی میں اس کی دینی توانائی کا ذریعہ بنا رہے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ہمیشہ ایک غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ وہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے اور تمام عبادات میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم ربانی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کا ایک ریہرسل ہے۔ تاہم اس کی جو کچھ اہمیت ہے وہ اس کی حقیقی روح کے اعتبار سے ہے، نہ کہ محض ظاہری رسوم و آداب کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں حج صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی دیارِ حرم میں جائے اور کچھ مخصوص مراسم دہرا کر واپس لوٹ آئے۔۔ بلکہ حج ان کیفیات کے حصول کا نام ہے جن کے لیے یہ مراسم مقرر کیے گئے ہیں۔ کھانا بلا شبہ آدمی کو طاقت دیتا ہے۔ مگر کھانا اسی شخص کے لیے طاقت ہے جو اس کو قاعدہ کے مطابق اپنے پیٹ میں ڈالے۔ اگر کوئی شخص اس کو محض دیکھے یا اپنے سر پر الٹ لے تو اس کے لیے انتہائی قیمتی غذا بھی بالکل بے فائدہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح حج کا حقیقی فائدہ بھی اس شخص کو ملے گا جو حج کو اس طرح کرے جیسا کہ اس کو کرنا چاہیے۔ حج کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page