حج کا پیغام
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (2:197)۔ یعنی، حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کو اپنے اوپر مقرر کرلے تو حج میں نہ فحش بات کرنی ہے، نہ گناہ کی بات اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادِ راہ لے لیا کرو۔ سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔ رفث کے معنی ہیں فحش کلامی کرنا۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لیے اردو میں کہتے ہیں ”اس نے انسانیت کا جامہ اتار پھینکا“۔ جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔ یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کرکے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا ہے۔ کبھی عام عادت کے خلاف کوئی بات پیش آتی ہے اور آدمی اپنا ظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔ حج کا اجتماع اس قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں، وہاں لے جا کر آدمی کو خصوصی طور پر اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے ۔ وہ اپنے آپ کو فواحش اور سطحی دل چسپیوں سے ہٹا کر سنجیدہ چیزوں کی طرف راغب کرے ۔ اس کے اندر ہر حال میں حق وصلاح پر قائم ہونے کا مزاج پیدا ہو۔ اجتماعی زندگی میں ناخوش گوار تجربات پیش آنے یا دل کو ٹھیس لگنے کے باوجود وہ اپنے بھائی سے لڑنے کے لیے نہ کھڑا ہوجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader