Urdu book · حقیقت حج

حج کا پیغام

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بھی چند آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں یا مل کر رہتے ہیں تو ایک کو دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی صورت حال حج میں زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آتی ہے۔ کیوں کہ حج کے موقع پر مختلف قسم کے لوگ بہت بڑی تعداد میں ایک مقام پر اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج کے دوران بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اب اگر لوگ ذاتی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو عبادت کی فضا ختم ہو جائے اور حج کا مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس لیے حج کے زمانہ میں جھگڑنے اور غصہ کرنے کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔ اس طرح حج کو ایک بہت بڑی چیز کے لیے تربیت کا ذریعہ بنایا گیا۔ کیوں کہ لڑائی جھگڑا جس طرح حج کو باطل کر دیتا ہے اسی طرح وہ ایک مسلمان کی عام زندگی کو بھی اسلام سے دور کر دینے والا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی ظاہری چیز کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیتا ہے اور اس کو اختیار کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے متقیانہ زندگی حاصل کر لی۔ حالاں کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا دل تقویٰ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ حج کے سفر میں زادِ راہ نہ رکھنا تقویٰ کی علامت ہے وہ اس کا خوب اہتمام کرنے لگے۔ مگر زاد راہ کا تعلق ضرورت سے ہے، نہ کہ تقویٰ سے۔ اس قسم کی چیزوں میں آدمی کو اپنی ضرورت کے اعتبار سے تیاری کرنا چاہیے۔ مگر تقویٰ اس سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس کا تعلق دل سے ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔ اللہ کے یہاں کوئی شخص محض اس لیے مقبول نہیں ہو جاتا کہ اس نے خواہ مخواه زادِ راہ کے بغیر سفر کیا اور اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالا۔ اللہ کو دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ حج کے سفر کو تقویٰ کا زاد راہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، کیونکہ یہی وہ زاد راہ ہے جو آخرت کے سفر میں آدمی کے کام آئے گا۔ حج کے مسافر اور اسی طرح زندگی کے مسافر کے لیے بہترین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page