Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

عقل مندی یہ ہے کہ وہ شہوانی باتوں سے بچے ، وہ اللہ کی ناپسندیدہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے کی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ چند پہلو اکثر حاجیوں کو دیکھا گیا ہے کہ ارکان حج کو ادا کرتے ہوئے وہ بس رٹی ہوئی دعائیں دہراتے ہیں یا کتاب ہاتھ میں لے کر اس سے پڑھتے رہتے ہیں۔ حج کی فقہی ادائیگی اگرچہ اس سے ہو جاتی ہے مگر حج کے دوران ذکر و دعا سے جو چیز مطلوب ہے اس کا حق اس طرح ادا نہیں ہوتا۔ حج کے دوران آدمی پر وہ کیفیت گزرنی چاہیے جو حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزری تھی۔ مثلاً جب آدمی سعی کرتا ہے تو اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے چاہئیں کہ خدایا تو نے اس سعی کے بعد ہاجرہ کے لیے برکت کا ابدی چشمہ جاری کر دیا تھا، میری سعی کو بھی تو ایسی سعی بنا دے جس کے بعد میرے لیے خیر کے ایسے چشمے جاری ہو جائیں جو دنیا سے آخرت تک مجھے سیراب کرتے رہیں۔ السید سابق نے اپنی مشہور کتاب فقہ السنہ میں بجا طور پر لکھا ہے: ” يُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُكْثِرَ مِنَ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ، وَيَتَخَيَّرَ مِنْهُمَا مَا يَنْشَرِحُ لَهُ صَدْرُهُ، دُونَ أَنْ يَتَقَيَّدَ بِشَيْءٍ أَوْ يُرَدِّدَ مَا يَقُولُهُ الْمُطَوِّفُونَ. فَلَيْسَ فِي ذَلِكَ ذِكْرٌ مَحْدُودٌ، أَلْزَمَنَا الشَّارِعُ بِهِ. وَمَا يَقُولُهُ النَّاسُ مِنْ أَذْكَارٍ وَأَدْعِيَةٍ فِي الشُّوْطِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي، وَهَكَذَا، فَلَيْسَ لَهُ أَصْلٌ. وَلَمْ يُحْفَظْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَلِلْطَّائِفِ أَنْ يَدْعُوَ لِنَفْسِهِ، وَلِإِخْوَانِهِ بِمَا شَاءَ، مِنْ خَيْرَيِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ (فقہ السنة، جلد اول، صفحہ 694)۔ یعنی، طواف کرنے والے کو چاہیے کہ طواف کے وقت خوب ذکر اور دعا کرے اور ان میں سے جن پر اسے شرح صدر ہو ان کو اختیار کر لے بغیر اس کے کہ اپنے کو کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page