چند پہلو
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
سے مقید کرے یا معلمین کے کہے کو دہراتا رہے۔ کیونکہ طواف میں کوئی متعین ذکر نہیں ہے جس کا شارع نے ہم کو پابند کیا ہو۔ اور عوام جو از کار اور دعائیں شوط اول، شوط ثانی وغیرہ میں پڑھتے ہیں ان کی کوئی اصل نہیں۔ اور اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں۔ طواف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اور اپنے بھائیوں کے لیے جس طرح چاہے دنیا اور آخرت کی بہتری مانگے۔ حج کے مسائل جو قرآن و حدیث میں ہیں وہ اتنے کم ہیں کہ چند صفحات میں لکھے جاسکتے ہیں۔ مگر فقہاء نے دوسری عبادات کی طرح حج کے بے شمار مسائل وضع کر رکھے ہیں جن کا احاطہ عام آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ اس ”اضافہ“ کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ حجاج کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے مگر اس استدلال میں کوئی وزن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محض فقہی مسائل پڑھ کر کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا ہے اور نہ حج کر سکتا ہے۔ یہ کام ایسا ہے جو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے مفصل احکام بتانے کے بجائے یہ فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ یعنی، جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو اسی طرح تم بھی نماز پڑھو۔ اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ لوگو مجھ کو دیکھ کر حج کے طریقے سیکھ لو: خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1984)۔ یہی اصلی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ نے نماز پڑھی۔ صحابہ کو دیکھ کر تابعین نے۔ تابعین کو دیکھ کر تبع تابعین نے۔ اسی طرح یہ سلسلہ آج تک چلا جا رہا ہے۔ اگر لو گوں کے پاس صرف فقہ کے نام نہاد تفصیلی مسائل ہوتے تو لوگ کبھی صحیح طور پر نماز نہ پڑھ سکتے۔ امام ابو حنیفہ اس فن کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر وکیع کہتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader