چند پہلو
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ میں نے مناسک کی ادائیگی میں پانچ غلطیاں کیں۔ پھر ایک حجام نے مجھے بتایا: عَنْ وَکِیْعٍ، قَالَ: قَالَ لِی أَبُو حَنِیفَةَ النُّعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ رضي الله عنه: أَخْطَأْتُ فِي خَمْسَةِ أَبْوَابٍ مِنَ الْمَنَاسِكِ، فَعَلَّمَنِیهَا حَجَّامٌ (البصائر والذخائر لابی حیان التوحیدی، جلد 5، صفحہ 131)۔ آج کل حاجیوں میں تقریباً 95 فی صد تعداد از یاد عمر والوں کی ہوتی ہے۔ ان میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بے حد بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ مناسک حج کو ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنا حج بدل کرائیں۔ حج بدل جو موجودہ زمانہ میں مُردوں کے لیے عام ہو گیا ہے وہ شریعت میں اصلاً ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ”عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ عَامَ حَجَّةِ الوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الحَجِّ أَدْرَکَتْ أَبِي شَيْخاً كَبِيراً لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أُحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ“(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1854)۔ یعنی، فضل بن عباس کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال بنو خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حج بندوں کے اوپر خدا کا فریضہ ہے۔ میرا ایک بوڑھا باپ ہے وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حج بدل کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مر گیا ہو اور یہ وصیت کی ہو کہ میری طرف سے حج ادا کر دینا۔ یہ صورت استنباطی طور پر نکلتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک مردہ کی طرف سے حج بدل اسی وقت ہے جب کہ موت سے پہلے اس نے وصیت کی ہو: إِنَّمَا يُحَجُّ عَنْهُ إِذَا أَوْصَى۔ أَمَّا إِذَا لَمْ يُوصَ فَلَا يُحَجُّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader