Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

عَنْهُ، لِأَنَّ الْحَجَّ عِبَادَةٌ غَلَبَ فِيهِ جَانِبُ الْبَدَنِيَّةِ، فَلَا يَقْبَلُ النِّيَابَةَ (فقه السنة، جلد 1، صفحہ 637)۔ حج ہر صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے: وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1773؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1349)۔ حضرت عمروبن العاص کی ایک روایت ان الفاظ میں آتی ہے: "لَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلأُبَايِعَكَ ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، فَقَبَضْتُ يَدِي فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟، فَقُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ فَقُلْتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟، وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ" (صحیح مسلم، حدیث نمبر 192)۔ یعنی، جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اپنا ہاتھ پھیلائیے تا کہ میں بیعت کروں۔ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہاتھ پھیلایا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ آپ نے کہا اے عمرو ایسا کیوں۔ میں نے کہا کہ میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری کیا شرط ہے۔ میں نے کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اور ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے اور حج پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حج مبرور حج مبرور کو اکثر لوگ حج مقبول کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page