Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو: اَلْحَجُّ الَّذِيْ لَا يُخَالِطُهُ إِثْمٌ (شرح النووی، جلد9، صفحہ119-118)۔ حسن بصری تابعی نے کہا ہے کہ حج مبرور وہ ہے جس سے آدمی اس طرح لوٹے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جاۓ: اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ وَأَنْ يَرْجِعَ زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ (التاریخ الکبیر للبخاری 36:75)۔ حقیقت یہ ہے کہ حج کو اگر صحیح شعور اور جذبہ کے ساتھ کیا جاۓ تو نہ صرف دورانِ حج آدمی گناہوں سے بچا رہے گا بلکہ وہ اس طرح لوٹے گا کہ ہر برائی سے اس کا دل متنفر ہو اور ہر بھلائی کی طرف اس کے اندر رغبت پیدا ہو چکی ہو۔ قابل غور ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَجُّ فِي ضَمَانِ اللهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا (الفردوس بما ثور الخطاب، حدیث نمبر 2761)۔ یعنی، حاجی اللہ کی نگرانی میں رہتا ہے، حج کے پہلے بھی اور حج کے بعد بھی۔ حاجی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے بلکہ معلوم نفسیاتی معنی میں ہے۔ حج کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے خصوصی اسباب مہیا کر رکھے ہیں کہ اس کا ارادہ پیدا ہوتے ہی آدمی کے اندر خدا کی یاد آنے لگتی ہے اور خدا کی طرف خصوصی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کو نیو یارک کا سفر پیش آۓ تو ”نیو یارک“ کی نسبت سے اس کی نفسیات بننے لگتی ہے۔ اور لوٹنے کے بعد اس کے اوپر ”نیو یارک“ کا ذہن غالب رہتا ہے۔ اسی طرح جو شخص حج کا سفر کرے تو وہاں جانے سے پہلے اور وہاں سے لوٹنے کے بعد وہ اپنے اندر خاص طرح کی ربانی نفسیات محسوس کرے گا۔ تاہم حج کا یہ فائدہ کوئی مشینی انداز کا نہیں ہے جو لازماً اپنے آپ حاجیوں کو ملتا رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حاجی کے اندر اس کے موافق استعداد موجود ہو۔ اس طرح کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page