Urdu book · حقیقت حج

قابلِ غور

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام فائدوں کا انحصار ہمیشہ آدمی کی اپنی استعداد پر ہوتا ہے۔ استعداد موجود ہو تو فائدہ ملے گا۔ اور اگر استعداد موجود نہ ہو تو فوائد کے سر چشمہ کے درمیان بھی آدمی بے فیض ہو کر رہ جائے گا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک روایت جوان الفاظ میں آئی ہے: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَحُجُّ أَغْنِيَاءُ أُمَّتِي لِلنُّزْهَةِ وَأَوْسَاطُهُمْ لِلتِّجَارَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ وَفُقَرَاؤُهُمْ لِلْمَسْأَلَةِ ( تاریخ بغداد، حدیث نمبر 5386)۔ یعنی، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ مالدار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے ۔ اور ان کے درمیانی درجہ کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے اور ان کے علماء دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے۔ اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔ حضرت انس کی یہ روایت بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے ۔ انھیں غور کرنا چاہیے کہ ان کا حج اس روایت کا مصداق تو نہیں بن گیا ہے۔ مالدار حضرات سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی روح ہے یا سیر و تفریح کی روح۔ عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے ہیں یا تجارتی فائدے کے لیے۔ علماء غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں یا اپنی پیشوایانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے۔ اسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انھوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page