حج ایک تاریخ ساز عمل
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
حج ایک تاریخی ساز عمل کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کو اس میں تروّد تھا کہ اسلامی عبادتوں میں کون سی عبادت افضل عبادت ہے۔ جب انھوں نے حج ادا کیا تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب مجھے یقین ہو گیا کہ حج تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے۔ حج کی اس فضیلت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج کا تعلق ایک عظیم خدائی منصوبہ سے ہے۔ حج ایک ایسے خدائی منصوبہ کی یادگار ہے جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی آخری تکمیل ہوئی۔ حج کے مختلف مناسک اسی خدائی منصوبہ کے مختلف مراحل ہیں جن کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے۔ حاجی اپنے گھر سے نکل کر حجاز کے لیے روانہ ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر حجاز آئے۔ وہ مکہ کے قریب پہنچ کر سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے اور اپنے جسم پر دو چادریں لپیٹ لیتا ہے۔ یہ اسی قسم کی سادہ پوشاک ہے جو اس زمانہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہوتی تھی۔ حاجی مکہ پہنچتا ہے تو کعبہ کے گرد گھوم کر اس کا چکر لگاتا ہے۔ یہ وہی طواف ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے عہد خداوندی کی توثیق کے لیے کیا تھا۔ حاجی صفا و مروہ کے درمیان سات بار سعی کرتا ہے۔ یہ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی نقل ہے جو انھوں نے اس بیابان میں پانی کی تلاش کے لیے کی۔ حاجی منیٰ جا کر قربانی کرتا ہے، یہ اس قربانی کا علامتی اعادہ ہے جو حضرت ابراہیم نے اولا ً بیٹے کے لیے اور اس کے بعد خدا کے حکم سے مینڈھے کے لیے کی تھی۔ حاجی جمرات پر جا کر شیطان کو کنکریاں مارتا ہے۔ یہ اس عمل کی یادگار ہے جو حضرت اسماعیل نے شیطان کی طرف کنکریاں مار کر کہا تھا جب کہ اس نے انھیں بہکانے کی کوشش کی۔ پھر تمام حاجی عرفات کے میدان میں جمع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader