Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

نیچے اتریں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنی چادر کا کنارہ اٹھایا اور نڈھال (exhausted) انسان کی طرح دوڑنے لگیں۔ پھر وادی کو عبور کرکے مروہ تک پہنچیں اور اس پر چڑھ کر دیکھنے لگیں کہ شاید کوئی دکھائی دے، لیکن وہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ انہوں نے یہ عمل سات مرتبہ دہرایا۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "یہی وجہ ہے کہ لوگ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔" ساتویں مرتبہ جب وہ مروہ کے اوپر تھیں تو انھوں نے آواز ایک سنی تو انھوں نے اپنے آپ سے کہا: "خاموش رہو!" غور کیا تو دوبارہ آواز سنائی دی۔ انھوں نے آواز سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمھاری آواز سن رہی ہوں، کیا تم میری مدد کر سکتے ہو۔ دراصل وہ ایک فرشتہ تھا، زمزم کے مقام پر۔ اس نے اپنی ایڑی (یا اپنے پر) سے زمین پر مارا یہاں تک کہ پانی ظاہر ہو گیا۔ حضرت ہاجرہ فورا اس کے گرد حوض بنانے لگیں، اور آپ نے مشکیزے میں پانی بھرنے لگیں، مگر مشکیزہ بھرنے کے بعد بھی زمین سے پانی اُبلتا رہا۔ (پانی کے بعد وہاں قبیلہ جرہّم آ کر آباد ہو گیا۔ اس کے بعد نارمل انداز میں دن گزرنے لگے)۔ یہاں تک کہ انھوں نے جرہم قبیلہ کی ایک خاتون سے حضرت اسماعیل کی شادی کردی پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم آئے۔ تا کہ وہ ان سب کی خبر لے سکیں، جن کو وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ لیکن (وہ پہنچے تو اسماعیل سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے اپنی بہو سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ بہو نے جواب دیا: وہ ہمارے لیے روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم نے اپنی بہو سے ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں پوچھا، تو بہو نے کہا کہ ہم بدحالی میں ہیں، تنگی اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ یعنی اس عورت نے شکایت کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page