حج ایک تاریخ ساز عمل
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: تمہارا کھانا کیا ہے؟ بیوی نے کہا: گوشت۔ انہوں نے پوچھا: اور تمہارا مشروب کیا ہے؟ بیوی نے کہا: پانی۔ ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: اے اللہ! ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس وقت ان کے پاس اناج نہ تھا، اگر ہوتا تو وہ اس کے لیے بھی دعا کرتے۔ پھر فرمایا: اگر کوئی شخص مکہ کے سوا کسی اور جگہ صرف ان دو چیزوں (گوشت اور پانی) پر گزارا کرے تو وہ اس کو راس نہیں آئے گا۔‘‘ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: جب تمہارا شوہر آئے، تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ برقرار رکھے۔ جب اسماعیل واپس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ بیوی نے کہا: ہاں، ایک خوش شکل بزرگ آئے تھے، اور انھوں نے حضرت ابراہیم کی تعریف کی، اور کہا کہ اس بزرگ نے تمہارے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتایا، اور ہماری زندگی کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ ہم خیر و عافیت میں ہیں۔ اسماعیل نے پوچھا: کیا انہوں نے میرے لیے کوئی نصیحت کی؟ بیوی نے کہا: انہوں نے سلام کہلا بھیجا اور کہا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو قائم رکھو۔ اسماعیل نے کہا: وہ میرے والد تھے، اور تم ہی وہ چوکھٹ ہو، انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں اپنے پاس رکھوں۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم پھر تشریف لائے۔ اس وقت اسماعیل ایک درخت کے نیچے تیر بنا رہے تھے، قریب ہی زمزم کا کنواں تھا۔ جب انہوں نے اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader