حج ایک تاریخ ساز عمل
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
والد کو دیکھا، تو اٹھ کر ان سے اس طرح ملے، جیسے باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے اسماعیل! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں اللہ کے لیے ایک گھر بناؤں۔ اور ایک اونچی جگہ کی طرف اشارہ کیا جس کے اردگرد پانی بہتا تھا مگر وہ جگہ اونچی تھی۔ چنانچہ دونوں نے بنیاد کھودنی شروع کی، اس کے بعد اسماعیل پتھر لاتے اور ابراہیم تعمیر کرتے۔ جب دیوار اونچی ہوگئی، تو ابراہیم نے اپنے پاؤں کے نیچے ایک پتھر رکھ لیا، اور اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے۔ اسماعیل پتھر اٹھا کر لاتے تھے، اور دونوں دعا کرتے تھے۔ اس طرح حضرت ابراہیم نے اسماعیل کے ساتھ کعبہ کی تعمیر مکمل کی۔ تعمیر کے دوران دونوں یہ دعا کرتے رہتے تھے،) جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: "اے ہمارے رب، قبول کر ہم سے، یقیناً تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے" (2:127)۔ حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی نسل میں ایک پیغمبر پیدا ہونے کی دعا کی تھی (البقرہ، 2:129)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دعا اور اس کی قبولیت کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران وہ نسل تیار کی جارہی تھی جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر سوچ سکے اور صحرائی تربیت کے نتیجہ میں جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیغمبر کا ساتھ دے کر اس مشکل مشن کو تکمیل تک پہنچا سکے۔ اسی لیے اس گروہ کو "خیر امت" کہا گیا۔ یہ امت تاریخ کی انوکھی امت ہے۔ ابتداً ضرور اس کی ایک تعداد پیغمبر کی دشمن ہو گئی۔ مگر جب اس کی سمجھ میں آ گیا تو اس نے بھر پور طور پر آپ کا ساتھ دیا۔ اس طرح جو نسل بنائی گئی اس کے اندر اگر چہ بعد کو اطراف کی دنیا سے کچھ شرک کے اثرات آگئے۔ مگر بنیادی طور پر وہ ایک محفوظ نسل تھی۔ کچھ ناقص افراد کو چھوڑ کر وہ لوگ صحیح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader