Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت پر قائم تھے۔ انھوں نے ابتداءِ پیغمبر کی مخالفت بھی کی۔ مگر اس کا سبب زیادہ تر نا سمجھی تھا۔ جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ واقعی یہ پیغمبر ہیں اور ان کا دین برحق ہے تو ان کی مخالفت دو بارہ موافقت میں تبدیل ہو گئی۔ وہ بھر پور طور پر آپ کے ساتھی بن گئے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو "ذبح" کر کے جونسل تیار کی اس کا سب سے زیادہ نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ آزاد ذہن کے ساتھ حقیقت کو دیکھ سکتی تھی اور اس کا اعتراف کر سکتی تھی ۔ حقیقت واقعہ کو مان لینے کی صلاحیت اس کے اندر کامل درجہ میں موجود تھی ۔ یہاں اس سلسلہ میں تین مختلف مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔ ایک شخص وہ جس نے حق کو سنتے ہی اسے مان لیا ۔ دوسرا وہ جس نے ابتداء انکار کیا مگر جب بات سمجھ میں آ گئی تو اس نے اعتراف میں دیر نہیں کی ۔ تیسرا وہ جس نے اگر چہ اپنی سرداری کی خاطر اعتراف نہیں کیا مگر وہ بھی اس صفت عام سے خالی نہ تھا۔ 1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں ایمان لائے ان میں سے ایک خالد بن سعید بن العاص تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ: اے محمد، آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اور یہ کہ تم پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نے ان کی عبادت کی اور کس نے ان کی عبادت نہیں کی (وَلَا يُدْرِي مِنْ عَبَدَهُ مِمَّنْ لَمْ يَعْبُدُه )۔ خالد نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ حضرت خالد کے والد جو مشرک تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا ہے تو انھوں نے ان کو پکڑا اور انھیں مارنا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ مارتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page