Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

مارتے لکڑی ٹوٹ گئی۔ جب حضرت خالد اسلام سے پھرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو باپ نے کہا کہ میں تمہارا کھانا پینا بند کر دوں گا اور تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ حضرت خالد نے جواب دیا، خدا کی قسم محمدؐ نے جو کہا سچ کہا اور میں ان کا پیرو ہوں: قَدْ صَدَقَ وَاللَّهِ وَاتَّبَعْتُهُ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5082)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد جب ایک حق بات کہہ رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نہ مانوں۔ 2- دوسری مثال سہیل بن عمرو کی ہے۔ صلح حدیبیہ کے وقت وہ مخالفینِ اسلام کے نمائندہ تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو املا کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ یہ وہ دفعات ہیں، جن پر محمد رسول اللہ نے اہل قریش سے صلح کی: هٰذَا مَا قَاضٰى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ سہیل بن عمرو نے ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے: وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَلَا قَاتَلْنَاكَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732)۔ بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل بن عمرو ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعۃً نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے۔ چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کر دی۔ 3۔ تیسری مثال ابو جہل کی ہے۔ ابو جہل نے اگرچہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page