Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ مکہ کی ایک عورت دیکھ رہی تھی۔ اس نے آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب سے کہا کہ آج ابو جہل نے آپ کے بھتیجے سے بہت نازیبا انداز میں کلام کیا ہے۔ اس وقت حمزہ کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ وہ اس کو لیے ہوئے ابو جہل کے پاس آئے اور کمان سے اس کے سر پر اس طرح مارا کہ اس کا سر بری طرح زخمی ہو گیا۔ ابو جہل کے قبیلہ ( بنومخزوم ) کے کچھ لوگ حمزہ کو مارنے کے لیے دوڑے۔ ابو جہل نے اپنے آدمیوں کو روک دیا اور کہا کہ حمزہ کو چھوڑ دو کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت برا بھلا کہہ دیا تھا : دَعُوْا أَبَا عُمَارَةَ، لَقَدْ سَبَبْتُ ابْنَ أَخِيْهِ سَبًّا قَبِيْحًا (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 4879) ۔ 4۔ ہر قل کے مشہور واقعہ میں آتا ہے کہ اس نے ابو سفیان سے پوچھا کہ کیا نبوت کے اعلان سے پہلے تم لوگوں نے محمد کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے پایا ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ نہیں ۔ یہ واقعہ نقل کر کے ابن کثیر لکھتے ہیں : " وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ إِذْ ذَاكَ رَأْسَ الْكَفَرَةِ وَزَعِيْمَ الْمُشْرِكِينَ وَمَعَ هَذَا اعْتَرَفَ بِالْحَقِّ" (تفسیر ابن کثیر ، جلد 4، صفحہ 222) ۔ یعنی، ابو سفیان اس وقت کا فروں کے سردار اور مشرکوں کے لیڈر تھے، اس کے باوجود انھوں نے حق کا اعتراف کیا۔ یہ تھی وہ انسانی نسل جو حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو " ذبح “ کر کے بنائی اور پھر اس کے منتخب افراد کے ذریعہ وہ "خیر امت “ بنی جس نے دل و جان سے توحید کو قبول کیا اور پھر بے مثال قربانی کے ذریعہ دورِ شرک کو ختم کر کے دور توحید کو بر پا کیا۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک یہ ایک ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ تھا۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page