Urdu book · حقیقت حج

حج ایک تاریخ ساز عمل

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

مرکز عرب کا وہ علاقہ تھا جس کو حجاز کہا جاتا ہے اور جس میں مکہ واقع ہے۔ حج اسی تاریخ کا علامتی اعادہ ہے۔ حج کے ذریعہ مسلمان دوبارہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبہ خداوندی میں اپنے آپ کو شامل کریں گے۔ وہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ( ہم حاضر ہیں خدا یا ہم حاضر ہیں) کہتے ہوئے ابراہیم اور اسماعیل کی سرزمین میں جمع ہوتے ہیں۔ جو کچھ ان لوگوں پر حقیقی طور پر گزرا تھا اس کو چند دن میں علامتی طور پر دہراتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ دوبارہ اس تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہیں جو یہاں اس سے پہلے دہرائی گئی تھی۔ آج زمانہ گھوم کر دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں تھا۔ اس وقت سارے عالم پر شرک کا غلبہ تھا، آج سارے عالم پر الحاد کا غلبہ ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان اگر مشرکانہ طرزِ پر سوچتا تھا تو آج کا انسان ملحدانہ طرزِ پر سوچتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا مسئلہ وہی ہے جو قدیم زمانہ کا مسئلہ تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ قدیم زمانہ میں مشرکانہ شاکلہ لوگوں کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ آج لوگوں کے اوپر الحادی شاکلہ چھایا ہوا ہے۔ اس شاکلہ (ذہنی سانچہ) کو توڑنا ہی آج اسلام کا اصل کام ہے۔ آج بھی اسلامی مہم اسی نہج پر طے ہوگی جس نہج پر قدیم زمانہ کی اسلامی مہم طے ہوئی تھی۔ اب دوبارہ کچھ لوگوں کو ذبح ہونا ہے۔ اب پھر کچھ لوگوں کو اپنی اولاد کو صحرا میں ڈالنا ہے تا کہ دین کی تاریخ دوبارہ زندہ ہو۔ ماضی میں دورِ شرک کو ختم کرنے کے لیے ایک نسل کی قربانی درکار تھی۔ آج دورِ الحاد کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ ایک نسل کی قربانی درکار ہے۔ یہی حج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ اسی کاج آج حج مبرور ہے جو حج کے بعد یہ عزم لے کر وہاں سے واپس آئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page