حج ایک تاریخ ساز عمل
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ حج سے فراغت کے بعد حاجی کا کام ختم نہیں ہو جاتا، حج سے فراغت کے بعد حاجی کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔ حج کے سفر سے واپسی ایک نئے اہم تر سفر کا آغاز ہے۔ حاجی مراسم حج کے دوران بار بار لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ (حاضر ہوں خدا یا میں حاضر ہوں) کہتا ہے ۔ یہ عہد نامے کے الفاظ ہیں ۔ حج خدا اور بندے کے درمیان ایک عہد ہے ۔ عہد ہمیشہ آغاز ہوتا ہے، وہ اختتام نہیں ہوتا۔ یہی حج کی عبادت کا معاملہ ہے۔ جو شخص مراسم حج کو ادا کر کے واپس آتا ہے وہ گویا خدا سے ایک مقدس عہد کر کے واپس آتا ہے ۔ واپس آنے کے بعد سے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا ہے بلکہ اپنے حالات اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کام شروع کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے رب سے عہد کر کے واپس آیا ہے۔ حج سے لوٹنا مقام عہد سے نکل کر مقام عمل کی طرف لوٹنا ہے۔ حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔ حج کا عہد نامہ کیا ہے۔ یہ ایک تاریخ کو دہرانے کا عزم ہے۔ حج تاریخ ابراہی می کو دوباره ظہور میں لانے کا اقرار ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ عراق کے متمدن لوگ توحید اور آخرت کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے عمل کا ایک نیا نقشہ بنایا انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو سخت ترین قربانی کے مرحلے سے گزار کر ایک نئی زندہ نسل پیدا کی ۔ انہوں نے دعوت کے عمل کو ایک عظیم منصوبہ کا عمل بنا دیا۔ انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو یہ مقصد ان سے کرنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ اسی طرح آج حاجی کو وہ سب کچھ کرنا ہے جو آج کے حالات کا تقاضا ہو اور اس وقت تک کرتے رہنا ہے جب کہ اس کی موت آئے یا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ حضرت ابراہیم کے زمانے میں جس طرح شرک کا عالمی غلبہ تھا۔ اسی طرح آج الحاد کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader