حج کی دعوتی اہمیت
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کی دعوتی اہمیت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بیت المقدس پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز تھا۔ خاتم النبیین کے بعد بیت اللہ الحرام پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز ہے (البقرہ، 144)۔ حج ایک اعتبار سے دنیا بھر کے پیروانِ اسلام کا سالانہ دعوتی اجتماع ہے۔ وہ خاص دنوں میں حرم کے گرد جمع ہوتے ہیں تاکہ اس کی مقدس فضاؤں میں خدا سے اپنا تعلق استوار کریں۔ اپنے باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور داعیِ اعظم حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کے مختلف مراحل کو علامتی طور پر دہرا کر اس بات کا عزم کریں کہ وہ ہر حال میں خدا کے دین کے داعی بنے رہیں گے۔ حج کی تاریخ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امام ہدایت بنایا: إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (2:124)۔ یعنی آپ کو اس مستقل کام کے لیے چُنا کہ آپ کے ذریعہ نبوت کا علم لوگوں تک برابر پہنچتا رہے۔ ابتدائی دو ہزار سال تک اس خدائی فیصلے کا ظہور آپ کے صاحبزادہ اسحاق کی شاخ میں ہوا۔ حضرت اسحق سے لے کر حضرت مسیح تک اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے جنھوں نے فلسطین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دعوتِ حق کا کام مسلسل انجام دیا۔ حضرت مسیح کے بعد یہ دینی امامت آپ کے دوسرے صاحبزادہ اسماعیل کی نسل میں منتقل ہو گئی۔ ان کی اولاد میں آخری نبی پیدا ہوئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی تاکہ آپ کے ذریعہ کتاب الہی کی حفاظت کا یقینی انتظام ہو سکے اور دین کے مٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اظہار دین: لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) کہا گیا ہے۔ عام پیغمبروں سے اصلاً صرف تبلیغ دین مطلوب تھی اور پیغمبر آخر الزماں سے تبلیغ دین کے ساتھ اظہار دین بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader