حج کی دعوتی اہمیت
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقصد کے لیے انسانوں کی ایک معاون جماعت درکار تھی جو تمام انسانی اوصاف سے متصف ہو۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اظہار دین کے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی جماعت کی تیاری کے لیے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو قدیم مکہ کے غیر آباد اور خشک علاقے میں لا کر بسا دیا، تاکہ تمدن سے دور فطرت کے سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک ایسی قوم پیدا ہو جس کے اندر تمام اعلیٰ صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ جو بے آمیز ڈھنگ سے سوچے۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو ایک نظری حق کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دے۔ جس کے اندر پہاڑوں کی صلابت، صحرا کی وسعت اور آسمان کی بلندی ہو۔ اس طرح جب صحرائی ماحول میں پرورش پا کر ایک خیر امت وجود میں آ گئی (آل عمران، 3:110) تو عین وقت پر اس کے اندر وہ نبی پیدا کر دیے گئے جس کے لیے حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت دعا کی تھی (البقرہ، 2:129)۔ حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کے بطن سے خدا کو ایک پیغمبر پیدا کرنا تھا۔ یہ پیغمبر حضرت ابراہیم ہی کی زندگی میں پیدا ہو گیا اور اس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم نے مکہ میں دعا کی کہ میرے لڑکے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر، تو اس دعا کی تکمیل میں دو ہزار سال سے زیادہ مدت لگی۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ دونوں کے تاریخی کردار کا فرق تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لیے ایک زندہ قوم درکار تھی۔ اس طرح کی قوم اسباب کے پردہ میں بننے کے لیے دو ہزار سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔ چنانچہ یہ قوم تیار ہو گئی تو آپ خدائی منصوبہ کے مطابق پیدا کر دیے گئے۔ تاہم یہ بھی ضروری تھا کہ تیاری کے اس طویل وقفہ کے دوران پیغمبرانہ دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ اس لیے دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم کی نسل کی اسرائیلی شاخ میں انبیاء کی پیدائش کا سلسلہ قائم کر دیا گیا۔ اور ایک کے بعد ایک پیغمبر آ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader