Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کو خدا پرستی کا پیغام دیتے رہے۔ تا آنکہ نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت آجانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس منصوبہ کے مطابق ، حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ ایک طرف آپ نے فلسطین ( جرون ) میں اپنی بیوی سارہ کو بسایا جن سے اسحاق پیدا ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے عرب ( مکہ ) میں اپنی دوسری بیوی ہاجرہ اور ان کے لڑکے اسماعیل کورکھا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی۔ گویا حضرت ابراہیم کے ذریعہ ہدایت عالم کی جو منصوبہ بندی کی گئی اس کے ابتدائی جزء کا مرکز فلسطین تھا اور اس کے آخری جزء کا مرکز حجاز۔ حضرت ابراہیم کے بعد اولاً فلسطین ہدایت الہی کا مرکز بنا۔ اسی علاقہ میں اس زمانہ کے تمام انبیاء پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انھیں کی نسبت سے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد کو جب بنی اسرائیل پر زوال آ گیا اور پیغمبروں کی مسلسل فہمائش کے باوجود انھوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا نے ہدایت آسمانی کے حامل ہونے کی حیثیت سے انھیں معزول کر دیا اور یہ مقدس منصب ابراہیمی نسل کی دوسری شاخ بنواسماعیل کو دے دیا۔ یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب کہ دوہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک ایسی زندہ قوم تیار ہو چکی تھی جو خدا کے دین کی حامل بن سکے۔ اس تبدیلی کی ایک ظاہری نشانی کے طور پر قبلہ عبادت بدل دیا گیا۔ حضرت ابراہیم کے بعد تمام انبیاء بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے۔ اب قدیم قبلہ کو منسوخ کر کے کعبہ کو قبلہ عبادت کی حیثیت دے دی گئی۔ حج ایک دعوتی ادارہ حج ابراہیمی تاریخ کا اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دعوت حق کی جو عالمی منصوبہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page