Urdu book · حقیقت حج

حج ایک دعوتی ادارہ

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

بندی کی گئی اسی کے مختلف مراحل کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی ربانی مشن میں لگائے گا جس میں حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو لگایا، وہ ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام کو اسی طرح جاری رکھے گا جس طرح خدا کے پاک پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔ خدا کے دعوتی منصوبہ کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم اپنے وطن سے نکلے، اسی طرح حاجی بھی اپنے وطن سے نکل کر زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ وہ دین کی خاطر بے وطن ہونے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے بالکل سادہ اور معمولی زندگی پر قناعت کی۔ اسی طرح حاجی احرام باندھ کر یہ عزم کرتا ہے کہ وہ صرف ناگزیر ضرورت پر اکتفا کر کے اپنی توجہ کو اصل مقصد کی طرف لگائے رہے گا۔ انھوں نے کعبہ کے گرد طواف کر کے خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کو استوار کیا، اسی طرح حاجی بھی کعبہ کا طواف کر کے خدا کا وفادار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ دینی تقاضوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خاندان پر یہ حالت گزری کہ پانی کی تلاش میں وہ صفا و مروہ کے درمیان دوڑے، اسی طرح حاجی دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کر کے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی خاطر وہ اس آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے خواہ اس کے گھر والوں پر وہ کیفیت گزر جائے جو ہاجرہ اور اسماعیل پر گزری۔ حضرت ابراہیم کو شیطان نے خدا کے نام سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکیں اسی طرح حاجی علامتی شیطان پر رمی کر کے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی شیطان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اگر اس نے اس کو ورغلایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا کی خاطر بیٹے کی جان تک پیش کرنی پڑی اسی طرح حاجی جانور کو قربان کر کے یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کی خاطر وہ قربانی کی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ حضرت ابراہیم کا دعوتی مشن آخرت سے آگاہ کرنے کا مشن تھا۔ چنانچہ حاجی میدان عرفات میں جمع ہو کر میدان حشر کو یاد کرتا ہے تا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page