حج ایک دعوتی ادارہ
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سب سے بڑی حقیقت کی یاد کو وہ اپنے ذہن کا جزء بنائے اور اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے۔ حضرت ابراہیم کو جب جب ان کے رب نے پکارا وہ فوراً حاضر ہو گئے ، اسی طرح حاجی اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1549 ؛ صحیح مسلم حدیث نمبر 1184) ۔ یعنی، میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور اقتدار میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ اس طرح حاجی اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر ہر وقت حاضر ہونے کے لیے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ دعوت اسلامی کا مرکز ہے اور حج اسلام کے داعیوں کا عالمی اجتماع ۔ حج کے موقع پر جو افعال کیتے جاتے ہیں وہ سب وہی ہیں جو حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کی یادگار ہیں۔ حج کے مناسک انھیں واقعات کا تمثیلی اعادہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کے درمیان مختلف صورتوں میں پیش آئے۔ حاجی بطور شعار (علامت) انھیں حج کے دنوں میں دہراتا ہے اور اس طرح اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ اسی طرح داعی بن کر رہے گا جس طرح حضرت ابراہیم دنیا میں خدا کے بن کر رہے۔ ان میں سے کچھ دعوتی زندگی کے براہ راست مرحلے ہیں اور کچھ بالواسطہ مرحلے ۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بتاتی ہے کہ حج کے یہ مراسم ان کی دعوتی زندگی کا جزء یا ان کے دعوتی سفر کے مراحل تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے حج اور کعبہ کی زیارت محض ایک قسم کی سالانہ مذہبی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوتی شعور اور تبلیغی روح زندہ ہو تو حج کا اجتماع خود بخود دعوتی اہمیت اختیار کر لے گا اور سالانہ دعوتی کانفرنس کے ہم معنی بن جائے گا۔ مگر جب مسلمانوں میں دعوتی روح ختم ہو جائے تو حج اسی طرح ایک بے روح عمل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader