حقیقت حج
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
بن کر رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بنا ہوا ہے۔ وہ پتھر کے شیطان پر کنکریاں پھینکتے ہیں مگر زندہ شیطان کو زیر کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ وہ علامتی اعمال کو دہراتے ہیں مگر حقیقی اعمال کی ادائیگی کے لیے ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔ حج ذریعہ اتحاد موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف و انتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اس کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اتحاد کا ایسا طاقت ور ذریعہ ہونا چاہیے جس میں تمام اختلافات پگھل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کاروایتی ہجوم بن کر رہ گیا ہے، نہ کہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع۔ اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جو جان کی تو جہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگا دے۔ اگر ایسا کوئی بڑا قصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے۔ دعوت، امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی۔ حج ایک زندہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10ھ میں آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی میں آپ نے 9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ایک مفصل خطبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader