حج ایک زندہ عمل
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے اس حج کو حجۃ البلاغ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں آپ نے اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو امت تک پہنچا کر اس سے اس کا عہد لیا تھا۔ چنانچہ خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں: اَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِع ( دلائل النبوة للبيهقى ، جلد 1، صفحہ 23) وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟”قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّ قَدْ بَلَّغْتَ، وَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: اَللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللهُمَّ، اشْهَدُ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1218؛ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 1457) یعنی، خبردار، جو موجود ہیں وہ میری بات کو غیر موجود تک پہنچا دیں۔ کیونکہ پہنچائے جانے والے اکثر سننے والوں سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا پھر تم کیا جواب دو گے۔ لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے امانت ادا کر دی اور پیغام پہنچادیا اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ اس واقعہ کے دو مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اس وقت تک اسلام عملاً عرب کے ملک تک پھیلا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب عرب سے باہر نکلے۔ انھوں نے تبلیغِ اسلام کو اپنا مشن بنالیا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اور سارا اثاثہ دین کی اشاعت کی راہ میں لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی وفات کے پچاس سال کے اندر اسلام قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔ اب بھی حج باقاعدہ ادا کیا جاتا ہے اور ”حجۃ البلاغ“ سے زیادہ بڑے مجمع کو خطاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader