Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہوئے امام حج ہر سال اسی قسم کی باتیں دہراتا ہے جو پیغمبرِ اسلام نے چودہ سوسال پہلے کہی تھیں۔ مگر آج ان باتوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے حج ایک زندہ عمل تھا، آج وہ ایک روایتی عمل بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حج کے موقع پر جن لوگوں کو خطاب کیا تھا وہ اسی ارادہ اور عزم کے ساتھ وہاں جمع ہوئے تھے کہ ان کو جو ہدایت دی جائے اس کو انھیں پورا کرنا ہے۔ اس کے برعکس، آج حاجیوں کی بھیڑ مکہ اور مدینہ میں صرف اس لیے جاتی ہے کہ وہ حج کے نام پر کچھ رسوم ادا کر کے واپس آجائے۔ اور جس حال میں پہلے تھی اسی حال میں دوبارہ رہنے لگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کو ایک مؤثر عمل کی حیثیت سے زندہ کرنے کا کام سب سے پہلے ” حاجیوں “ کو زندہ کرنے کا کام ہے۔ جب تک حاجیوں ، بالفاظ دیگر مسلمانوں میں شعور بیدار نہ کیا جائے ، حج کی عبادت اسی طرح بے اثر رہے گی ، جیسے ایک خراب بندوق جس کی لبلی (trigger) دبائی جائے مگر اس کے باوجود فائر نہ کرے۔ حج کی تنظیم نو حج کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا یہ ہے کہ اس کو دعوتی ادارہ کی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ حج کو دعوتِ اسلامی کی عالمی منصوبہ بندی کا مرکز بنا دیا جائے۔ اس بین الاقوامی موقع پر ہر ملک کے لوگ اپنے ملک کے دعوتی حالات پیش کریں۔ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہ کے تجربات کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ حج کے خطبات میں دعوت کی اہمیت اور اس کے جدید مواقع کی وضاحت کی جائے۔ حج کے ادارہ کے تحت مختلف زبانوں میں مؤثر دعوتی لٹریچر تیار کرنے کا انتظام کیا جائے اور اس کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے، وغیرہ۔ تاہم یہ بھی اس طرح جان لینا چاہیے کہ حج کی نئی رخ بندی خود مسلمانوں کی زندگی کی نئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page