حج کی تنظیمِ نو
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
رخ بندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مسلمان کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس ہے۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر مسلمان موجودہ زمانہ میں اس حقیقت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ انھوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کو اپنا مادی حریف اور قومی فریق بنا رکھا ہے۔ حج کو دعوتی ادارہ کی حیثیت سے زندہ کرنے کے لیے سب سے پہلے مسلمانوں کو دعوتی گروہ کی حیثیت سے زندہ کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اس کے لیے آمادہ کرنا ہوگا کہ دنیا بھر میں وہ اپنی ان قومی سرگرمیوں کو ختم کر دیں جو ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کی فضا پیدا نہیں ہونے دیتیں۔ اگر آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان معتدل فضا نہ ہو تو آپ کس کو تبلیغ کریں گے اور کون آپ کی تبلیغ کو سنے گا۔ پھر اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اعلیٰ درجہ کی تبلیغی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔ جن کا نصاب اور نظام کامل طور پر دعوت پر مبنی ہو۔ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جہاں لوگوں کی تربیت داعیانہ انداز سے کی جائے۔ ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو ایک طرف لوگوں کے اندر دعوتی ذہن بنائے اور دوسری طرف ان کو دعوتی معلومات سے مسلح کرے۔ حتی کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کا جدید بنیادی لٹریچر دوبارہ تیار کیا جائے۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں تفسیر قرآن اور سیرت رسول پر جو کتابیں تیار ہوئی ہیں وہ زیادہ تر ردعمل کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں، وہ غیر قوموں کے فکری اور عملی حملوں کے جواب کے طور پر وجود میں آئی ہیں، نہ کہ دعوت اسلام کی مثبت وضاحت کے لیے۔ اب سے چودہ سو سال پہلے مکی دور میں چلے جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلام کا پیغمبر تنہا کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ اس وقت اسلام دنیا میں اجنبی تھا۔ مگر آج ہر دن کثرت سے لوگ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور حج کے زمانہ میں ساری دنیا کے لاکھوں انسان اس طرح ہجوم کر کے مکہ آتے ہیں کہ مسجد حرام کی مسلسل توسیع کے باوجود ہر سال اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader