Urdu book · حقیقت حج

حج کی تنظیمِ نو

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

عمارت ناکافی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تعداد کی یہ کثرت کیسے ممکن ہوئی ، جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج کا عالمی اجتماع اسلام کی دعوتی قوت کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسلام کی دعوتی قوت ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام ترقیوں کا راز چھپا دیا ہے۔ اس میں اہل اسلام کی دنیوی نجات بھی ہے اور اسی میں ان کی اخروی نجات بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی قوت ہمیشہ دعوت رہی ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام اگر چہ مکہ کے عوام کو متاثر نہ کر سکا، مگر وہ سارے قیمتی افراد مکہ کے ابتدائی دور ہی میں ملے جو بعد کو اسلام کی تاریخ کے ستون قرار پائے۔ یہ صرف اسلامی دعوت کا نتیجہ تھا ، کیوں کہ اس وقت اسلام کے پاس کوئی دوسری قوت موجود ہی نہ تھی۔ بعد کو مکہ کے جو لوگ اسلام لائے وہ بھی اسلام کی نظریاتی برتری سے متاثر ہو کر اسلام لائے ، مثلاً عمر و بن العاص اور خالد بن ولید وغیرہ۔ دوسرے مرحلہ میں مدینہ میں اسلام کا مستحکم ہونا بھی دعوت ہی کے ذریعہ عمل میں آیا۔ مدینہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگ اسلام کے داعی بن کر مدینہ پہنچے، وہاں انھوں نے سادہ انداز میں اسلام کی دعوت شروع کی ۔ اس کے نتیجہ میں لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ مدینہ اسلام کا فکری اور عملی مرکز بن گیا۔ بعد کے دور میں مغلوں اور تاتاریوں کا مسئلہ اسلام کے لیے پیش آیا۔ یہ وحشی قومیں گھوڑوں پر سوار ہو کر تیر اور تلوار لیے ہوئے مسلم ملکوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کے طاقی مراکز کو زیر و بر کر ڈالا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح اس سے پہلے بہت سی تہذیبوں کی تاریخ پیدا ہوئی اور ختم ہو گئی۔ مگر عین اس وقت اسلام کی دعوتی طاقت ابھری اور اس نے سارے مسئلہ کو اس طرح حل کر دیا کہ خود فاتح قوموں کو اسلام کا جزء بنا لیا۔ حج اور بیت اللہ ایک عظیم دعوتی منصوبہ بندی کی علامت ہے۔ حضرت ابراہیم کی آواز جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page