Urdu book · حقیقت حج

حج کی تنظیمِ نو

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

عراق اور شام اور مصر کے متمدن علاقوں میں نہیں سنی گئی تو آپ نے خدا کے حکم سے اپنی اولاد کو لا کر مکہ میں بسایا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی تا کہ وہ ہدایت الہی کے مستقل مرکز کے طور پر کام دے : • إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (3:96)_ یعنی، پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لیے رہنما۔ • عمروبن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الحِجَازِ كَمَا تَأْرُزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الحِجَازِ مَعْقَلَ الأُرُوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الجَبَلِ، إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَيَرْجِعُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2630) _ یعنی، دین حجاز کی طرف سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین حجاز کے ساتھ باندھ دیا جائے گا جس طرح بکرے کو پہاڑ کے تھان پر باندھ دیا جاتا ہے۔ دین شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا تو اجنبیوں مبارک ہو۔ یہی لوگ ہیں جو اس وقت لوگوں کی اصلاح کریں گے جب کہ وہ بگڑ جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حجاز دعوت اسلامی کا مرکز بنا اسی طرح آئندہ بھی جب دین لوگوں کے اندر سے گم ہو گا تو دوبارہ حجاز ہی خدا کے دین کو زندہ کرنے کا مرکز بنے گا۔ حج کا مقام خدا کی عبادت کا مقام بھی ہے اور خدا کے دین کی دعوت و تجدید کا مرکز بھی۔ ضرورت ہے کہ آج حج کے مراکز کو دوبارہ اسی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب نے بہت سے نئے دعوتی امکانات کھول دیے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page