حقیقت حج
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے نتیجہ میں آج یہ بات ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانہ پر ممکن ہو گئی ہے کہ حج کے عالم گیر اجتماع کو دعوت دین کی عالمی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جائے، اور اس طرح اسلام کے طرز فکر کو دنیا میں دوبارہ غالب طرز فکر بنا دیا جائے۔ جیسا کہ ماضی میں وہ غالب طرز فکر بنا ہوا تھا۔ یہی وہ مقصود ہے جس کو قرآن میں اظہار دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کہا گیا ہے، اور اس کو پانے کا راز بلا شبہ حج کی دعوتی اہمیت کو دوبارہ زندہ کرنے میں چھپا ہوا ہے۔ ایک ضروری شرط حج کے ادارے کو عالمی دعوتی ادارہ بنانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ حج کے فریضے کو سیاست سے بالکل الگ رکھا جائے۔ راقم الحروف نے ستمبر 1982ء میں حج کا فریضہ ادا کیا تھا۔ ایک روز جب کہ میں بیت اللہ کے اندر تھا ایک خاص ملک کے کچھ لوگ وہاں آئے اور اپنے ملک کے لیڈر کا نام لے کر زندہ باد پائندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ یہ سن کر بہت سے حاجی ان کے گرد جمع ہوگئے۔ آپس میں اختلافی بحثیں شروع ہوگئیں یہ سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا۔ بیت اللہ کا ماحول ذکر اور عبادت کا ماحول ہے مگر مذکورہ نادانی کے نتیجہ میں وہ سیاسی نزاع کا ماحول بن کر رہ گیا۔ یہی قصہ مدینہ میں بھی پیش آیا۔ مدینہ میں میں ایک ہوٹل میں ٹہرا ہوا تھا۔ وہاں کچھ نوجوان میرے کمرے میں آئے۔ ان کے پاس بہت سے چھپے ہوئے پمفلٹ تھے جو انگریزی اور عربی زبان میں تیار کیے گئے تھے۔ ان کتابچوں میں ایک خاص مسلم ملک کے حکمران کو نشانہ بنا کر اس کے بارے میں مخالفانہ باتیں لکھی گئی تھیں۔ ان نو جوانوں نے یہ کتابچے مجھے دیے تو میں نے کہا کہ آپ اپنا قیمتی وقت بھی برباد کر رہے ہیں اور ایام حج کو بھی نہایت غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ نو جوان مجھ سے بحث کرتے رہے یہاں تک کہ وہ بگڑ کر چلے گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader