حقیقت حج
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کا عاطفی پہلو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (56 : 51)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت کا جذبہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر شامل ہے۔ انسان کو نہ صرف یہ کہ ازروئے واقعہ خدا کی عبادت کرنا چاہیے بلکہ اس کی فطرت کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ خدا کی عبادت خود انسان کی اپنی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی عبادت کے سوا کوئی چیز انسان کو حقیقی طور پر مطمئن نہیں کرتی: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) ۔ یعنی سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹا بچہ عین اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہے کہ وہ اپنی ماں کی طرف لپکے۔ اسی طرح انسان عین اندرونی پکار کی بنا پر مجبور ہے کہ وہ خدا کی طرف دوڑے ۔ انسان اپنی اندرونی شخصیت کو بدل نہیں سکتا، اس لیے وہ خدا کو بھی اپنے دل و دماغ سے نکال نہیں سکتا۔ علم الانسان کی شہادت یہ حقیقت موجودہ زمانہ میں انسانیات (Anthropology) کے ذریعہ علمی طور پر ثابت ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں علم الانسان کے ماہرین نے انسانی معاشرہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ تاریخ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک کے انسانی معاشروں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو حقائق سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے اتار چڑھاؤ کے باوجود انسان ہمیشہ خدا کا پرستار رہا ہے۔ خدا اور مذہب کا جذبہ انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں علم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader