علم الانسان کی شہادت
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تحقیقات کا خلاصہ ہم انسائیکلوپیڈیا امریکا نا کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں: “From the earliest days of the world's history man has been more or less a religious creature. Almost invariably he has had a god, or several of them, to whom he looked for protection. At times these gods have been crude fetishes of whittled wood or roughly hewn stone; at times they have assumed the form of animals or reptiles, or have appeared as cruel monsters eager for the life-blood of those who reverenced them. But, however they may have come, man has worshipped them, because religion, as represented in the worship of a super-natural power, is interwoven with the entire fabric of human nature.” (Encyclopedia Americana, 1961, Vol. 23, p. 354) دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کم وبیش ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ تقریباً ہر زمانہ میں وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا، جس کی طرف وہ بچاؤ کے لیے دیکھ سکے۔ کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے۔ کبھی پتھر کے۔ کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ لیا گیا، وغیرہ۔ مگر ہر حال میں وہ تھے اور انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کرے۔ کیونکہ مذہب، ایک مافوق طاقت کی پرستش کی صورت میں، انسان کی فطرت کے پورے ڈھانچہ میں گندھا ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں تخلیقی طور پر پیوست ہے۔ تاہم یہ شعور مجمل انداز میں ہے۔ اس لیے انسان ایسا کرتا ہے کہ جب وہ حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو مصنوعی طور پر وہ خود ساختہ خداؤں کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ فطرت کے زور پر اس کے اندر پرستش کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اگر اس کے سامنے پیغمبر کی رہنمائی ہو تو اس کا یہ جذبہ خدائے وحدہ لاشریک کی صورت میں اس کا جواب پالے گا۔ اور اگر پیغمبر کی رہنمائی اس کے سامنے نہ ہو تو وہ اپنے جذبہ کی مصنوعی تسکین کے لیے غیر خداؤں کو خدا فرض کر کے ان کو پوجنے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader