Urdu book · حقیقت حج

حقیقت حج

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا مقصود اصلی صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جو اس کا خالق و مالک ہے۔ یہ مقصود اس کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ شامل ہے۔ انسان یکسو ہو کر اپنی فطرت پر کان لگائے تو وہ خود اپنے اندر خدا کو پالے گا۔ وہ اس کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرے گا۔ یہ فطرت گویا انسان کا "لاشور" ہے۔ پیغمبر اسی لاشعور کو شعور کا درجہ عطا کرتا ہے۔ تاہم انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے صرف یہ غیبی معرفت کافی نہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ خدا کو محسوس طور پر بھی پائے۔ وہ خدا کا محسوس ادراک کر سکے۔ مگر یہاں یہ رکاوٹ ہے کہ خدا کا محسوس ادراک حقیقی معنوں میں آخرت سے پہلے ممکن نہیں۔ آخرت میں بلاشبہ انسان خدا کو دیکھے گا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کچھ چہرے تر و تازہ ہوں گے، وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے (75:22)۔ حدیث سے بھی یہ بات تواتر کی حد تک ثابت ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم عنقریب اپنے رب کو کھلے طور پر دیکھو گے: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7435)۔ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 554، صحیح مسلم، حدیث نمبر 633)۔ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات میں چاند کی طرف دیکھا، پھر فرمایا کہ تم (آخرت میں) اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ شعائر الله یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا حقیقی مشاہدہ صرف آخرت میں ہوگا۔ مگر آخرت کے خدائی مشاہدہ پر یقین رکھتے ہوئے بھی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو پائے۔ وہ کل کے آنے سے پہلے آج کے دن خدا کی قربت حاصل کرے۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ طلب موجودہ دنیا میں کس طرح پوری ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page