Urdu book · حقیقت حج

شعائر اللہ

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا جواب شعائر اللہ (البقرہ، 2:158) کی صورت میں فراہم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کو ان کی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اپنا شعیرہ (علامت) قرار دیا ہے۔ ان علامتوں یا یادگاروں کے گرد ایسے حالات جمع کیے گئے ہیں کہ ان کو دیکھنا خدا کو دیکھنا بن جائے۔ جس خدا کو انسان براہ راست نہیں پا سکتا اس کو وہ بالواسطہ انداز میں پالے۔ انسان موجودہ دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھ سکتا، البتہ شعائر اللہ کو دیکھ سکتا ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں اللہ کو اس طرح نہیں پا سکتا کہ وہ اس کو چھوئے اور اس سے محسوس قربت حاصل کرے۔ البتہ وہ شعائر اللہ کو چھوسکتا ہے اور اس کے ذریعہ سے قربت خداوندی کا محسوس تجربہ کر سکتا ہے۔ شعیرہ (جمع شعائر) معنی ہیں نشان، علامت، یادگار۔ یعنی وہ چیز جو خود اصل نہ ہو۔ البتہ وہ کسی نسبت کی بناء پر اصل کی یاد دلائے۔ اس کی ایک مثال صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں جن کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ الله (2:158)۔ یعنی، صفا اور مروہ، بیشک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ صفا اور مروہ مکہ میں بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً 500 قدم کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو لا کر یہاں بسایا تو یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ حضرت ہاجرہ کی مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ صفا اور مروہ کے درمیان پانی کی تلاش میں سات بار دوڑیں۔ اسی کی یاد میں آج بھی تمام حاجی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور اس نے صفا اور مروہ کو اپنا شعیرہ قرار دیدیا۔ یعنی خدا پرستی کی مستند یادگار۔ صفا اور مروہ کو دیکھ کر وہ پوری تاریخ یاد آجاتی ہے جب کہ اللہ کے ایک بندہ نے صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنے سرسبز وطن (عراق) کو چھوڑا اور اپنے بیوی اور بچہ کو بے آب و گیاہ علاقہ میں لا کر بسا دیا۔ یہ اللہ پر یقین اور اس کے اوپر اعتماد کی ایک کامل مثال ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page