شعائر اللہ
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح کعبہ، حجر اسود اور حج سے متعلق دوسری چیزیں سب کی سب شعائر اللہ ہیں۔ یہ موحد کامل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی خدا پرستانہ زندگی کی نشانیاں ہیں۔ ان کو دیکھ کر حضرت ابراہیم کی موحدانہ تاریخ یاد آتی ہے۔ ان کو دیکھ کر خدا کی عظمت و جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ ان شعائر کے ماحول میں پہنچ کر آدمی اپنے آپ کو خدا کے ماحول میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ حجر اسود کو حدیث میں یَدُ اللهِ فِي الْأَرْضِ (کنز العمال، حدیث نمبر 38072) کہا جاتا ہے، یعنی زمین میں اللہ کا ہاتھ۔ یہ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ تمثیلی معنوں میں ہے۔ آدمی کے اندر اٹھنے والے ربانی جذبات اپنی محسوس تسکین کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ اللہ کے ہاتھ کو چھوئیں اور اس کو چھو کر اپنے جذبے کو مطمئن کریں، حجر اسود کو چوم کر آدمی اپنے اسی جذبہ کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کو پا کر اس کے گرد گھومے، کعبہ کے مقدس گھر کا طواف کر کے وہ اپنے اسی جذبہ کو تسکین دیتا ہے۔ آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے دوڑے، وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے تو اس کو یہی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حج کے تمام مراسم کسی نہ کسی اعتبار سے انسان کے چھپے ہوئے جذبات کی تسکین ہیں۔ وہ اپنے رب سے محسوس تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ معبود کی پرستش کا جذبہ فطری طور پر انسان کے اندر چھپا ہوا ہے۔ شرک اور بت پرستی اسی فطری جذبہ کا غلط استعمال ہے۔ توحید کا عقیدہ اس فطری جذبہ کو صحیح رُخ عطا کرتا ہے، یہی معاملہ حج کے مراسم کا ہے۔ حج ایک اعتبار سے ایک انسانی غلطی کی اصلاح ہے۔ وہ انسان کی طلب کو غلط رُخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس کو صحیح رُخ پر لگا دیتا ہے۔ حج اسی جذبہ کی تسکین کی صحیح صورت ہے جس کو انسان غلط طریقہ سے تسکین دینا چاہتا ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھے، وہ محسوس طور پر اس کو پا کر اس کے آگے مراسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader