شعائر اللہ
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
عبودیت ادا کرے، انسان نے اپنے اس جذبہ کی تسکین کے لیے یہ کیا کہ اس نے غیر مرئی خدا کی مرئی تصویر (image) بنائی۔ اور اس خود ساختہ تصویر کو خدا کی تصویر سمجھ کر اس کو پوجنا شروع کر دیا۔ مگر یہ قرآن کے الفاظ میں الحاد (انحراف) ہے۔ انسان اپنے جس فطری جذبہ کا جواب خدائی بتوں میں تلاش کر رہا ہے اس کا جواب زیادہ صحیح طور پر خدائی یادگاروں (شعائر اللہ) میں موجود ہے۔ خدا کا بت بنانا ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کا مجسمہ بنانا۔ مجسمہ وہ شخص بناتا ہے جس نے صاحب مجسمہ کو یا اس کی تصویر کو دیکھا ہو۔ مگر خدا کے بارے میں کوئی مجسمہ ساز یہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ایک شخص جب خدا کا بت بناتا ہے تو وہ لا محدود کو محدود کرتا ہے۔ وہ ایک برتر ہستی کو غیر برتر چیزوں میں ڈھالتا ہے۔ اس قسم کا ہر فعل واقعہ کے خلاف ہے۔ اور وہ بلا شبہ سرکشی کے ہم معنی ہے۔ حج ایک اعتبار سے انسانی ذہن کی اصلاح ہے۔ حج کا پیغام یہ ہے کہ خدا کو "مجسمہ" کی سطح پر اتارنے کی کوشش نہ کرو۔ خدا کو اس کے "شعائر" کی سطح پر دیکھو۔ موجودہ دنیا میں تم خدا کو اس کی ذات کی سطح پر نہیں پا سکتے۔ البتہ تم اس کو آثارِ ذات کی سطح پر پا سکتے ہو۔ یہ شعائر وہ ہیں جو خدا کے معیاری پرستاروں کے عمل سے قائم ہوئے ہیں۔ یہ تاریخ کے ان لمحات کی مادی یادگاریں ہیں جب کہ خدا اور بندے کے درمیان براہِ راست اتصال قائم ہوا۔ جب بندہ نے خدا کو پایا اور خدا نے اپنے کو بندہ کے لیے بے نقاب کیا۔ تاریخ کے وہ قیمتی افراد جنھوں نے خدا پرستی کو اس کی اعلیٰ اور معیاری شکل میں اختیار کیا۔ ان کے آثار ہی کا نام شعائر اللہ (خدا کی یادگاریں) ہے۔ انھیں شعائر کے درمیان تمام مراسم حج ادا کیے جاتے ہیں۔ ان سے دوری خدا سے دوری ہے اور ان سے وابستگی خدا سے وابستگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader